Noor Jehan

لتا منگیشکر لندن اور نور جہاں شیخوپورہ ہیں. 


نور جہاں صرف پنجابی گیت ہی گا سکتی تھیں. 


نور جہاں ایک بدمزاج غصیلی اور بد لحاظ خاتون تھیں. 


. ان متنازعہ باتوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں. 


ہم موازنے اور مقابلے کی ماری ہوئی قوم ہیں. ہم بجائے تعریف کرنے کے ہر جگہ مقابلے کرنے بیٹھ جاتے ہیں. نور جہاں کا موازنہ لتا جی سے کیا جاتا ہے کہ کون بڑی سنگر ہے. ایک سادہ سی مثال ہے. اگر پچاس کی دہائی کی پانچ مقبول سنگرز کو لیں جیسے نور جہاں ،لتا جی ، شمشاد بیگم گیتا دت اور اقبال بانو. اب آپ نور جہاں اور لتا جی کو جتنا مرضی میلوڈی کوئنز کہہ لیں اور ان کا انداز بھی سب سے الگ تھا. 







اب نور جہاں کی گائیکی کا موازنہ کرنا ہی ہے تو ان کو دوسری پلے بیک سنگرز سے ایک درجہ اوپر اس کیٹگری میں رکھنا پڑے گا جس میں اختری بائی ، کانن دیوی اور مختار بیگم آتی ہیں.


 بنیادی طور پر نور جہاں کلاسیکل سنگر تھیں. . اڑجا پنچھی اڑ جا . اس گیت میں موجود الاپ اور مرکی سن کر ان کے فن اور استادی کا اندازہ ہو جاتا ہے. بچپن سے ہی وہ میوزک کے بڑے مقابلوں میں کلاسیکل میوزک کےاستاد گائیکوں کے سامنے گاتی رہی ہیں. 


نور جہاں ایسی سنگر تھیں جس نے خاموش فلموں میں بھی چائلڈ سٹار کے طور پر کام کیا. نور جہاں ایک تاریخ تھی جس نے انڈین فلم انڈسٹری کو بنتے اور پھر عروج پر جاتے دیکھا. فلم زینت کے گیت" بلبلورہی. 


اچھا کچھ بظاہر ڈیسنٹ بنتے ہوئے لوگ فضول سا اعتراض کرتے ہیں کہ نور جہاں پنجابی زیادہ گاتی تھیں اس لیے وہ قدرے لوکل سی گلوکارہ تھیں.




 لتا جی، مکیش ، اقبال بانو ، مہدی حسن، طلعت محمود، مہناز بیگم، ٹینا ثانی ، جگجیت سنگھ، رونا لیلیٰ ، آشا بھوسلے ان سب نے پنجابی گیت بہت شوق اور مزے سے گائے ہیں. اور سب سے بڑھ کر ملکہ غزل بیگم اختر کے پنجابی ریکارڈ بھی موجود ہیں. 


اور اس میں جو غزلیں تھیں کیا یہ سن کر لگتا ہے کہ کوئی اور گائیکہ ان غزلوں کو اس سے بہتر گا سکتی تھ

Comments

Popular Posts